بلاول پوری طرح تیار نہیں، روکوں گا تو مسئلے ہوں گے، آصف زرداری – Pakistan

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین اور سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ کہ مجھے یقین ہے الیکشن 8 فروری کو ہی ہوں گے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری انتخابی مہم شروع ہے، انتخابی مہم سیاسی جماعتوں کیلئے صحت مند ہوتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ بلاول سب کو بابے کہہ رہے ہیں، صرف مجھے نہیں کہہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی پود کی سوچ ہے، ہر گھر کی سوچ ہے کہ ”بابا آپ کو کچھ نہیں آتا“۔

آصف زرداری نے کہا کہ پارٹی کے امیدواروں کو ٹکٹ میں دیتا ہوں، ہم نے تلوار کو گندے انڈوں سے بچایا ہوا ہے، گندے انڈوں نے تلوار لینے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کی نئی نسل کی اپنی سوچ ہے، انہیں سوچ کے اظہار کا حق ہے، میں کسی کو کیوں روکوں، روکوں گا تو اور مسئلے ہوں گے، بلاول کہے گا ’آپ سیاست کرو، میں سیاست نہیں کروں گا‘، تو میں کیا کروں گا؟

سابق صدر نے بلاول بھٹو کو زیر تربیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’بلاول ابھی مکمل ٹرین نہیں ہوا، پڑھا لکھا ہے اچھا بولتا ہے، لیکن تجربہ تجربہ ہوتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں سیکھتے سیکھتے، سیکھتے ہیں ،مجھ سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔

سابق صدر نے کہا کہ میں نے کبھی انتقامی سیاست نہیں کی، میرے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا، میرے خلاف نئے الزامات لگتے تھے، میں نے کبھی جواب نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پولیس اسٹیشن نہیں ہے کہ ”گُڈ کاپ بیڈ کاپ“ کھیلا جائے

آصف علی زرداری نے کہا کہ میاں صاحب سے سب ڈرتے ہیں ان سے بات نہیں کرتے، میرے سامنے سب بات کرتے ہیں، پارٹی کا ایک منشور ہے، گلے سے پکڑتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ عدم اعتماد واپس لے لیتے تو پاکستان کے حالات بہتر نہیں بدتر ہوتے، نہ ایکسپورٹ تھی، نہ زرمبادلہ، نہ دوست تھے جو مدد کرسکتے، ہم ہر چیز میں ڈیفالٹ کرچکے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی پارٹی 172 کی اکثریت نہیں لے سکتی، اکثریت ن لیگ، نہ مولانا، نہ کوئی اور نہ ہم پیپلز پارٹی لےسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ن لیگ لیڈ کرے، دوسری جماعتیں اور شخصیات بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں چاہیے ہمیں موقع دیں، اب ہم اپنے لیے گیم لگائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میری مجبوری ہے، ضرورت نہیں، سیاست ضرورت اس لئے ہے کہ بی بی اور کارکنوں نے شہادتیں دیں جو ہم پرقرض ہے، جمہوریت تو کافی عرصے سے کمزور ہورہی ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اختیارات دینا دوست کو سمجھ نہیں آیا، انہوں نے میری چھٹی کرادی۔ ’ہم نے اداروں کو پہلے بھی مضبوط کیا ہے اور ہم اب بھی الیکشن کمiشن کو مضبوط کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہمیشہ اتحاد بنتے ہیں، فنکشنل لیگ نے ہمارے خلاف الائنس بنائے، ایم کیو ایم پہلے بھی ساتھ نہیں تھی اب بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہتر ہے اس نہج پر چلیں کہ آگے بھی چل سکیں، پیپلز پارٹی اس الیکشن میں اچھا خاصہ سرپرائز دے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top