ماسکو غزہ کا مستقبل طے کرنے والوں میں شامل ہونا چاہتا ہے:تجزیہ کار

روس نے منگل کے روز ماسکو میں فلسطینی نمائندوں اور مسلمان ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ایک نئے گروپ کی میزبانی کی جس کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیل اور حماس جنگ پرروس کی جانب سے اپنا موقف ظاہر کرنے کی کوشش تھی۔

فلسطینی اتھارٹی، سعودی عرب، مصر اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے منگل کو ایک بار پھر ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ جنگ بندی دیرپا امن کی طرف پہلا قدم ہونا چاہیے۔ روسی وزیر خارجہ نے اپنے ملک کے مقاصد کا خلاصہ پیش کیا۔

سرگئی لاوروف نے زور دیا کہ “لڑائی بند کریں ، شہریوں کو درپیش مسائل حل کریں اور مغویوں کو رہا کریں۔”

اس وفد نے اس سے قبل چین کا دورہ کیا تھا۔

روس نے تاریخی طور پر اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے تنازعے کے حل طور پرایک فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے ۔ اور مبصرین کا کہنا ہے کہ حماس اور اسرائیل میں جاری جنگ سے ماسکو کو عالمی سٹیج پر اپنا اثر و رسوخ دکھانے کا موقع ملا ہے۔

ماسکو میں روسی وزیر خارجہ کی میز بانی میں ہونے والا اجلاس۔رائٹرز

ماسکو میں روسی وزیر خارجہ کی میز بانی میں ہونے والا اجلاس۔رائٹرز

روسی صدر ولادی میر پوٹن نے موقعے سے فائدہ اٹھا کر حالیہ بحران کے لیے امریکہ کو ذمے دار ٹھہرایا ۔ا نہوں نے اسرائیل حماس جنگ پر بات کرتے ہوئے، جس کا آغاز اسرائیل پر حماس کے جنگجؤؤں کی جانب سے ایک ہلاکت خیز حملے سے ہواتھا، کہا کہ یہ تمام واقعات درحقیقت فلسطین اسرائیل تصفیے میں ثالثی کے عمل پر امریکہ کی اجارہ داری کی خواہش اور مشرق وسطیٰ کے عالمی ثالثوں کی سرگرمیوں کو روکنے کا براہ راست نتیجہ ہیں۔

صدر ولادی میر پوٹن۔ فائل فوٹو

صدر ولادی میر پوٹن۔ فائل فوٹو

امریکی عہدہ داروں نے فوری طور پر پوٹن کےبیان کا کوئی جواب نہیں دیا، جس میں مشرق وسطیٰ امن مذاکرات میں ثالثی کرنے میں مدد کرنے والے چار فریقوں – امریکہ، روس، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کا حوالہ دیا گیا ہے ۔

سیاسی تجزیہ کار آرکاڈی ڈوبنوف کہتے ہیں کہ پوٹن ایک ایسی فیصلہ کن طاقت کے طور پر عالمی برادری کے سامنے آنا چاہتے ہیں جو اسرائیل اور حماس جنگ کو حل کرنے میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔اور اس نے ہی ماسکو کو اس اجلاس کی میزبانی کی تحریک دی ہے۔

ڈوبنوف نے کہا کہ، “میں اس میٹنگ سےکوئی بلند توقعات نہیں رکھ سکتا۔ “اس کے برعکس، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک طرح کا خانہ پُری کا عمل ہے جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ ماسکو اس معاملے کو حل کرنے میں ایک کھلاڑی بننے کی کوشش کر رہا ہے اور غزہ کے مستقبل کا تعین کرنے والوں میں شامل ہونا چاہتا ہے۔”

متعدد تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی ملاقاتوں کے ذریعے، روس اپنے آپ کو مشرق وسطیٰ میں امن کے ضامن کے طور پر پیش کرنے کی امید رکھتا ہے – ایک ایسا موقف جو تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین پر اس کے پوری شدت سے کیے جانے والے حملےکے پیش نظر قابل بحث ہے۔

روس میں بات چیت کرنے والااسلامی ملکوں کا نیا گروپ

متعدد مسلمان ملکوں کے سینئر عہدے داروں پر مشتمل ایک نیا گروپ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور دوسروں سے ملاقات کررہا ہے تاکہ ان پر غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے ۔

یہ گروپ اس ماہ کے شروع میں عرب لیگ اور آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن کے ریاض میں سربراہی اجلاس میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اس میں ترکیہ ، قطر ، مصر، اردن ، نائیجیریا ، سعودی عرب ، انڈونیشیا ، فلسطینی اتھارٹی کے وزرائےخارجہ اور ارکان کے ساتھ ساتھ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل شامل ہیں۔

گروپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ، امریکہ ، چین ، روس ، برطانیہ ، اور فرانس کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے ۔ اس کا آغاز انہوں نےپیر کو بیجنگ کے دورے سے کیا تھا ۔

وائس آف امریکہ کی الزبتھ چیرناف کی رپورٹ

#ماسکو #غزہ #کا #مستقبل #طے #کرنے #والوں #میں #شامل #ہونا #چاہتا #ہےتجزیہ #کار

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top