نیدرلینڈز کے انتخابات میں اسلام مخالف رہنما کی کامیابی، حکومت بنانے کی پوزیشن میں

نیدرلینڈز کے پارلیمانی انتخابات میں اسلام اور یورپی یونین مخالف انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان گیرت ولڈرز نے بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے جس کے بعد ان کی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔

یورپ میں نیدر لینڈ کے انتخابی نتائج کے وسیع اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جہاں پہلے ہی انتہائی دائیں بازو کے نظریات کی مقبولیت عروج پر ہے۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد امکان ہے کہ نیدرلینڈز اب اتحاد سازی کے ایک پیچیدہ دور میں داخل ہوگا جہاں حکومت بنانے کے لیے گیرت ولڈرز کو دیگر جماعتوں سے مذاکرات کرنا ہوں گے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ابتدائی نتائج میں گیرت ولڈرز کی جماعت پارٹی فار فریڈم (پی وی وی) نے تمام توقعات کے برعکس پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کی 150 میں سے 37 نشستیں حاصل کی ہیں۔ ان کے علاوہ لیبر پارٹی اور گرین لیفٹ کے مشترکہ ٹکٹ پر لڑنے والے 25 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جب کہ سبک دوش ہونے والے وزیرِاعظم مارک روتاہ کی پیپلز پارٹی فار فریڈم اینڈ ڈیموکریسی (وی وی ڈی) کی جماعت نے 24 نشستیں حاصل کی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ انتخابات میں گیرت ولڈرز کی جماعت 17 نشستیں حاصل کرسکی تھی۔

انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے پر گیرت ولڈرز نے خوشی اور حیرت کا اظہار کیا۔ اپنی جیت پر تقریر کرتے ہوئے ولڈرز نے کہا کہ “مجھے یقین ہے ہم ایک معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔ ہم حکومت کرنا چاہتے ہیں اور ہم حکومت کریں گے۔”

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کی رپورٹ کے مطابق اپنی سخت بیان بازی کے باوجود گیرت ولڈرز نے اپنی کامیابی کے بعد خطاب میں دیگر رائٹ اینڈ سینٹر پارٹیز کو یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ وہ جو بھی پالیسیاں آگے بڑھائیں گے وہ “قانون اور آئین کے مطابق” ہوں گی۔

گیرت ولڈرز کے انتخابی پروگرام میں نیڈرلینڈز کے یورپی یونین چھوڑنے پر ریفرنڈم، پناہ کے متلاشی افراد کو قبول کرنے سے روکنے اور نیدرلینڈز کی سرحدوں سے تارکینِ وطن کو پیچھے دھکیلنے کے نکات شامل تھے۔

نیدرلینڈز کی”ڈی اسلامائزیشن” یعنی اسلامی اثرات کم یا ختم کرنے کا وعدہ بھی ولڈرز کے انتخابی منشور میں شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں کوئی مسجد یا اسلامی اسکولز نہیں چاہتے۔ اگرچہ حالیہ انتخابی مہم کے دوران اسلام کے بارے میں ان کا رویہ ماضی کے مقابلے میں نرم رہا تھا۔

اس کے برعکس حالیہ انتخابات کے لیے اپنی مہم میں ولڈرز نے ترکِ وطن کرنے والوں کو روکنے، ضروریاتِ زندگی کے بحران اور مکانات کی قلت جیسے مسائل کو حل کرنے پر زیادہ زور دیا۔

ولڈرز کو اقتدار میں آنے کے لیے پہلےایک مخلوط حکومت بنانا ہوگی جو ان کے لیے ایک مشکل ٹاسک ثابت ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ مرکزی دھارے کی جماعتیں ان کے اور ان کی جماعت کے ساتھ کسی حکومتی اتحاد میں شامل ہونے سے ہچکچا رہی ہیں۔ لیکن ولڈرز کو حاصل ہونے والی ممکنہ نشستوں کی تعداد حکومت سازی کے لیے ہونے والے جوڑ توڑ میں ان کے ہاتھ مضبوط کرسکتی ہے۔

ولڈرز نے دیگر جماعتوں سے اتحاد کے لیے مذاکرت میں تعمیری طور پر شامل ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیو سوشل کانٹریکٹ پارٹی (این ایس سی) کے رہنما پیٹر اومزیخت کہتے ہیں وہ ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار رہیں گے۔

ولڈرز جن جماعتوں کے ساتھ حکومت بنا سکتے ہیں ان کے یورپی یونین مخالف خیالات ولڈرز سے مطابقت نہیں رکھتے۔

دوسری جانب اسلامی اور مراکشی باشندوں کی تنظیموں نے ولڈرز کی جیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ نیڈرلینڈز کی آبادی کا تقریباً پانچ فی صد مسلمان ہیں۔

مراکشی ڈچ باشندوں کی نمائندگی کرنے والی ایک تنظیم کے سربراہ حبیب القدوری نے مقامی خبر رساں ادارے اے این پی کو بتایا کہ تکلیف اور خوف بہت زیادہ ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہمیں دوسرے درجے کے شہری کے طور پر پیش کریں گے۔

آگے کیا ہوسکتا ہے؟

اگرچہ گیرت ولڈرز کی جماعت کو سب سے زیادہ نشستیں ملی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لازمی حکومت بنا لیں گے۔

اگر نشستوں کی تعداد دیکھی جائے تو اب تک گرین لیفٹ-لیبر پارٹی کے دو جماعتی اتحاد نے 25 نشستیں حاصل کی ہیں۔ پارٹی فار فریڈم کی 24 نشستیں ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ نیو سوشل کانٹریکٹ پارٹی کی 20 نشستیں ہیں جب کہ ڈیموکریٹ پارٹی کی نو نشستیں ہیں۔ یہ سب جماعتیں اگر مل جاتی ہیں تو ان کی مجموعی نشستوں کی تعداد 78 ہوجائے گی جو مطلوبہ اکثریت کے لیے درکار نمبرہے۔

اگر فریڈم پارٹی، وی وی ڈی اور این ایس سی پارٹی کا اتحاد ہوجاتا ہے تو ان کی مشترکہ نشستوں کی تعداد 81 ہوجائے گی جو اتحادی حکومت کے لیے ایک واضح اکثریت بن جائے گا لیکن کسی حکومتی اتحاد کی تشکیل کے لیے اتفاقِ رائے ہونے میں مہینوں کی مشکل بات چیت کے ادوار ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں اداروں ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ اور ‘رائٹرز’ سے لی گئی ہیں۔

#نیدرلینڈز #کے #انتخابات #میں #اسلام #مخالف #رہنما #کی #کامیابی #حکومت #بنانے #کی #پوزیشن #میں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top